شب برات کی فضیلت

 *شعبان کی پندرہویں شب”شب برأت“کہلاتی ہے*


یعنی وہ رات جس میں مخلوق کوگناہوں سے بری کردیا جاتاہے۔


تقریبًا دس صحابہ کرامؓ سے اس رات کے متعلق احادیث منقول ہیں۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ” شعبان کی پندرہویں شب کو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی آرام گاہ پر موجود نہ پایا تو تلاش میں نکلی دیکھا کہ آپ جنت البقیع کے قبرستان میں ہیں پھر مجھ سے فرمایا کہ آج شعبان کی پندرہویں رات ہے ،اس رات میں اللہ تعالیٰ آسمان دنیاپر نزول فرماتا ہے اور قبیلہ بنی کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے بھی زیادہ گنہگاروں کی بخشش فرماتا ہے۔“


دوسری حدیث میں ہے”اس رات میں اس سال پیدا ہونے والے ہربچے کانام لکھ دیاجاتا ہے ،اس رات میں اس سال مرنے والے ہر آدمی کانام لکھ لیا جاتا ہے،اس رات میں تمہارے اعمال اٹھائے جاتے ہیں،اور تمہارا رزق اتارا جاتا ہے۔“


اسی طرح ایک روایت میں ہے کہ” اس رات میں تمام مخلوق کی مغفرت کردی جاتی ہے سوائے سات اشخاص کے وہ یہ ہیں۔مشرک،والدین کانافرمان،کینہ پرور،شرابی،قاتل،شلوارکوٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا اورچغل خور،ان سات افرادکی اس عظیم رات میں بھی مغفرت نہیں ہوتی جب تک کہ یہ اپنے جرائم سے توبہ نہ کرلیں۔


حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایک روایت میں منقول ہے کہ اس رات میں عبادت کیاکرواوردن میں روزہ رکھاکرو،اس رات سورج غروب ہوتے ہی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اوراعلان ہوتاہے کون ہے جوگناہوں کی بخشش کروائے؟کون ہے جورزق میں وسعت طلب کرے؟کون مصیبت زدہ ہے جومصیبت سے چھٹکاراحاصل کرناچاہتاہو؟


ان احادیث کریمہ اورصحابہ کرام ؓاوربزرگانِ دینؒ کے عمل سے ثابت ہوتاہے کہ اس رات میں تین کام کرنے کے ہیں:


۱۔قبرستان جاکرمردوں کے لیے ایصالِ  ثواب اورمغفرت کی دعا کی جائے۔لیکن یادرہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ساری حیاتِ مبارکہ میں صرف ایک مرتبہ شب برأت میں جنت البقیع جاناثابت ہے۔اس لیے اگرکوئی شخص زندگی میں ایک مرتبہ بھی اتباع سنت کی نیت سے چلاجائے تواجروثواب کاباعث ہے۔لیکن پھول پتیاں،چادرچڑھاوے،اورچراغاں کااہتمام کرنااورہرسال جانے کولازم سمجھنااس کوشب برأت کے ارکان میں داخل کرنایہ ٹھیک نہیں ہے۔جوچیزنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جس درجے میں ثابت ہے اس کواسی درجہ میں رکھناچاہئے اس کانام اتباع اوردین ہے۔


۲۔اس رات میں نوافل،تلاوت،ذکرواذکارکااہتمام کرنا۔اس بارے میں یہ واضح رہے کہ نفل ایک ایسی عبادت ہے جس میں تنہائی مطلوب ہے یہ خلوت کی عبادت ہے، اس کے ذریعہ انسان اللہ کاقرب حاصل کرتاہے۔لہذانوافل وغیرہ تنہائی میں اپنے گھرمیں اداکرکے اس موقع کوغنیمت جانیں۔نوافل کی جماعت اورمخصوص طریقہ اپنانادرست نہیں ہے۔یہ فضیلت والی راتیں شوروشغب اورمیلے،اجتماع منعقدکرنے کی راتیں نہیں ہیں،بلکہ گوشۂ تنہائی میں بیٹھ کراللہ سے تعلقات استوارکرنے کے قیمتی لمحات ہیں ان کوضائع ہونے سے بچائیں۔


۳۔دن میں روزہ رکھنابھی مستحب ہے، ایک تواس بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت ہے اوردوسرایہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہرماہ ایام بیض(۱۳،۱۴،۱۵) کے روزوں کااہتمام فرماتے تھے ،لہذااس نیت سے روزہ رکھاجائے توموجب اجروثوب ہوگا۔باقی اس رات میں پٹاخے بجانا،آتش بازی کرنا اورحلوے کی رسم کااہتمام کرنایہ سب خرافات اوراسراف میں شامل ہیں۔شیطان ان فضولیات میں انسان کومشغول کرکے اللہ کی مغفرت اورعبادت سے محروم کردیناچاہتاہے اوریہی شیطان کااصل مقصدہے۔


بہر حال اس رات کی فضیلت بے اصل نہیں ہے اور سلف صالحین نے اس رات کی فضیلت سے فائدہ اٹھا یا ہے۔

لفظ” اللہ“ کا ذکر۔۔۔۔

         لفظ ”اللہ“ کا ذکر نفسیاتی امراض کے لیے بہترین علاج


ہالینڈ کے ماہر نفسیات نے انکشاف کیا ہے کہ لفظ ”اللہ“کا ذکر افسردگی اور ذہنی تناٶکے شکار مریضوں کے لیے بہترین علاج ہےبلکہ انہیں دیگر نفسیاتی بیماریوں سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔ڈچ ماہر نفسيات وینڈرہاون نے اپنی نٸ دریافت میں اعلان کیا ہے کہ قرآن مجید کا مطالعہ اور لفظ ”اللہ“ کا بار بار دہرایا جانا مریض یا عام شخص ہر دو پر اثر کرتا ہے۔ڈچ پروفيسر اپنے مطالعہ اور تحقيق سے گزشتہ ٣ سال سے مریضوں پر تجربے کر رہے ہیں۔ان میں سے بیشتر مریض غیر مسلم تھے جو عربی بول نہیں سکتے تھے ،انہیں لفظ ”اللہ“ صاف طور پر بولنے کی تربیت دی گٸ۔اس کا غیر معمولی نتیجہ بر آمد ہوا،خاص طور پر اُن مریضوں پر جو افسردگی  اور تناٶ کا شکار تھے۔

      سعودی روز نامہ ”الوطن“ نے لکھا ہے کہ مسلمان جو کے عربی پڑھ سکتے ہیں اور قرآن کا مطالعہ بلا ناغہ کرتے ہیں وہ خودکو نفسیاتی بیماریوں سے محفوظ رکھ سکتے ہیں ۔ماہر نفسیات کے مطابق ”اللہ“ کا ہر حرف نفسیاتی امراض کے سدباب میں مٶثر ہے۔اپنی تحقیق کی مزید وضاحت کرتے ہوۓ وینڈرہاون نے بتایا کہ لفظ ”اللہ“کا پہلا حرف ”الف“نظام تنفس سے خارج ہوتا ہے اور سانس کو کنٹرول میں رکھتا ہے ۔حرف ”ل“ کی اداٸیگی کے لیے زبان کو معمولی سا تالو سے لگا کر تھوڑا توقف کے بعد اس عمل کو صحیح اداٸیگی سے دہرانے اور سانس لینے کا عمل توقف سے جاری رکھنے سے تناٶکو عافیت حاصل ہوگی انہوں نے مزید کہا کہ لفظ ”اللہ“ کا آخری ”ہ“ کی اداٸیگی سے پھیپھڑے اور دل کا رابطہ ہوتا ہے اور بدلے میں یہ رابطہ دل کی دھڑکن کو کنٹرول کرتا ہے۔ 

(تحفةرمضان)

اَینَ اَنتُم یااُمَّةِ محمد ﷺ

 جہادفی سبیل اللہ ایمان کے بعد افضل ترین عمل ہے۔

جو لوگ اللہ کے راہ میں جہاد کرتے ہیں تو اللہ ان کی مدد کرتا ہے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتے ہیں :

 ترجمہ: ”اے ایمان والو !اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ بھی تمہاری مدد کرے گا اور تم کو ثابت قدم رکھے گا۔ “

سورة محمد ٧

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے الصف۔١٠۔١٤

   اے ایمان والو! میں تم کو ایسی تجارت نہ بتادوں جو تم کوایک درد ناک عذاب سے بچالے ۔ تم لوگ اللہ تعالیٰ پر اوراس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے مال اورجان سے جہاد کرو یہ تمہارے حق میں بہت بہتر ہے اگر تم سمجھ رکھتے ہو۔ (جب ایسا کرو گے تو) اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ معاف کردے گا اورتم کو جنت کے ایسے باغات میں داخل کردے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اورعمدہ مکانوں میں (داخل کرے گا) جو ہمیشہ رہنے کے باغو ں میں (بنے )ہوں گے یہ بڑی کامیابی ہے اورایک اورچیز (تمہیں دے گا) جس کو تم پسند کرتے ہو یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد اور جلدی فتح یابی اورآپ ایمان والوں کو بشارت دے دیجئے۔ اے ایمان والو ! تم اللہ تعالیٰ کے (دین کے ) مددگار بن جاؤ جیسا کہ عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام ) نے اپنے حواریوں سے فرمایاکہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہومیرا (تم میں سے ) کون مدد گار ہے! وہ حواری بولے ہم اللہ تعالیٰ (کے دین )کے مددگار ہیں بنی اسرئیل میں سے کچھ لوگ ایمان لائے اور کچھ لوگ منکر رہے پس ہم نے ایمان والوں کو ان کے دشمنوں کے مقابلے میں قوت دی پس وہ غالب ہوگئ


اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتے ہیں:

     ”ترجمہ: جن لوگوں نے ایمان کا راستہ اختیار کیا ہے وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور جنہوں نے کفر کا راستہ اختیار کیا ہے وہ طاغوت کی راہ میں لڑتے ہیں ۔“ (النسإ٧٦)

طاغوت کا مصدر طغیان ہے جس کے معنی حد سے گزر جانے کے ہیں۔ دریا جب اپنی حد سے گزر جاتا ہے تو آپ کہتے ہیں طغیانی آ گٸ ہے۔اسی طرح جب آدمی اپنی حد سے گزر کر اس غرض کے لیے اپنی طاقت استعمال کرتا ہے کہ انسانوں کا خدا بن جاۓ یا اپنے حصہ سے زاٸد فوائد حاصل کرے ،تو یہ طاغوت کی راہ میں لڑنا ہے۔۔۔۔اور اس کے مقابلہ میں راہ خدا کی جنگ وہ ہے جس کا مقصد صرف یہ ہو کہ قانون عدل دنیا میں قاٸم ہو۔


ایک اور جگہ قرآن میں ارشاد ہوتا ہے:

     ”خدا کی لعنت ان ظالموں پر جو خدا کے بناۓ ہوۓ زندگی کے سیدھے راستے سے روکتے ہیں اور اس کو ٹیڑھا کرنا چاہتے ہیں۔“ (ھود١٩)


اللہ تعالیٰ سورۃ توبة میں ارشاد فرماتے ہیں:

     ”اے ایمان والو ! تمہیں کیا ہوا جب تمہیں کہا جاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں نکلو تو زمین پرگرے جاتے ہو کیا تم آخرت کو چھوڑ کر دنیا کی زندگی پر خوش ہو گۓ ہو ، دنیا کی زندگی کا  فاٸدہ تو آخرت کے مقابلہ میں بہت کم ہے۔“ (38)


شریعت اسلامی کی اصطلاح میں ”دین اسلام کی اشاعت و ترویج ، سر بلندی و اعلإاور حصول رضاۓ الٰہی کے لیے اپنی تمام تر جانی، مالی، جسمانی، لسانی، اور ذہنی صلاحيتوں اور استعدادوں کو وقف کرنا جہاد کہلاتا ہے


ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم فرماتے تھے :

 ”اگر دین کا غلبہ چاہتے ہو تو جہاد کرو  نہیں کرتے ہو تو پھر جہنم سے چھٹکارا پانے کا خیال بھی تمہاری خام خیالی ہے ۔“


حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کا بیان ہے،رسول اللہﷺ نے فرمایا : میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق کے لیے قتال کرتا رہے گا اور وہ اپنے مقابل آنے والوں پر غالب رہیں گے حتیٰ کہ ان کا آخری گروہ مسیح دجال سے لڑائی کرے گا۔“

               ہرقل نے ان سے کہا تھا میں نے تم پوچھا تھا کہ ان کے یعنی ( نبی کریمﷺ) کے ساتھ لڑاٸیوں کا کا انجام رہتا ہے تو تم نے بتایا کہ لڑائی ڈولوں کی طرح ہے کبھی ادھر کبھی ادھر یعنی کبھی لڑائی کا انجام ہمارے حق میں ہوتا ہے اور کبھی ان کے حق میں ۔ انبیإ کا بھی یہ ہی حال ہوتا ہے کہ ان کی آزمائش ہوتی رہتی ہے ( کبھی فتح کبھی ہار ) لیکن انجام انہیں کے حق میں اچھا ہوتا ہے۔  

                   صحیح بخاری۔2804


رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جو شخص بھی اللہ کے راستے میں زخمی ہوا اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ کون زخمی ہوا ہے وہ قیامت کے دن اس طرح سے آۓ گا کہ اس کے زخموں سے خون بہہ رہا ہو گا رنگ تو خون جیسا ہو گا لیکن اس میں خوشبو مشک جیسی ہو گی۔“

        صحیح بخاری۔2803


           نبی کریم ﷺ نے فرمایا ” کہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کی مثال ۔۔۔۔۔۔اوراللہ تعالیٰ  اس شخص کو خوب جانتا ہے جو (خلوص دل کے ساتھ صرف اللہ کی رضا کے لیے) اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہے ۔۔۔اس شخص کی سی ہے جو رات میں برابر نماز پڑھتا رہے اور دن میں برابر روزے رکھتارہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے راستے میں جہاد کرنے والے کے لیے اس کی ذمہ داری لے لی ہے کہ اگر شہادت دے گا تو اسے بے حساب و کتاب جنت میں داخل کرے گا یاپھر زندہ و سلامت (گھر) ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ واپس کرے گا۔

             رسول ﷺ نے فرمایا فتح مکہ کے بعد ہجرت (فرض)نہیں رہی البتہ جہاد اور نیت بخیر کرنا اب بھی باقی ہیں اور جب تمہیں جہاد کے لیے بلایا جاۓ تو نکل کھڑے ہواکرو۔

آج اگر ہم دیکھیں توایسا معلوم پڑتا ہے جیسے قرآن و حدیث کی یہ ساری باتیں آج ہی کے لیے ہمیں بتائی گٸ ہیں ۔ آج جو ظلم مسلمانوں پر ہو رہا ہے انہیں ان کے گھروں سے نکالا جارہا ہے تو جہاد ہی کے ذریعے ان ظالموں سے نجات حاصل کر کے دین اسلام کا نام سر بلند کیا جا سکتا ہے اور پھر مجاہدین کی مدد کا ذمہ بھی اللہ تعالیٰ نے لیا ہے اور جو لوگ  شوق ، جذبہ جہاد نہیں رکھتے ان کے بارے میں قرآن کہتا ہے

                    ترجمہ(سورۃ النسإ)            

جو مسلمان (گھروں میں ) بیٹھ رہتے (اور لڑنےسے  جی چراتے) ہیں اور کوئی عذر نہیں رکھتے وہ اورجو اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے مال اورجان سے لڑتے ہیں وہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے ۔ مال اورجان سے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر اللہ تعالیٰ نے درجے میں فضیلت بخشی ہے اور (گو) نیک وعدہ سب سے ہے لیکن اجر عظیم کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر کہیں فضیلت بخشی ہیں اور رحمت میں اور اللہ تعالیٰ بڑ ا بخشنے والا اور مہربان ہے ۔

بے شک مجاہد کا رتبہ بہت بڑا ہے اور اجر بھی بے حساب ہے۔

فضل بن زیادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک بار امام احمد رحمہ اللہ بن حنبل کے سامنے جہاد کا تذکرہ آیا تو آپ روتے ہوئے فرماتے تھے کہ نیکیوں میں جہاد سے بڑھ کر کوئی نیکی نہیں۔ کسی اور نے امام احمد رحمہ اللہ بن حنبل کے یہ الفاظ نقل کئے ہیں آپ نے فرمایا دشمن کے ساتھ لڑنے کے برابر کوئی عمل نہیں ہے جہاد میں نکلنا ہی سب سے افضل عمل ہے وہ لوگ جو دشمنوں سے لڑتے ہیں وہی اسلام اور اس کی عزت کے محافظ ہیں۔ تو ایسے لوگوں سے زیادہ افضل عمل کس کا ہوسکتا ہے جو دوسروں کے امن کی خاطر خود خوف کا سامنا کرتے ہیں اوراپنی زندگی کی رونقوں  [اورلذتوں] کو قربان کرتے ہیں۔ (المغنی لابن قدامہ) 

 [اسی طرح ]ایک اور شخص نے حاضر خدمت ہو کر      عرض کیا اے اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کوئی ایسا عمل بتادیجئے جس کے ذریعے میں مجاہدین فی سبیل اللہ کے عمل [کے مقام ] تک پہنچ سکوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ! اگر تو رات کو قیام کرے اور دن کو روزے رکھے تب بھی تو مجاہد کی نیند کے مقام کو نہیں پاسکتا۔ (کتاب السنن لسعید بن منصور)

ارضِ مقدسہ کی پکار

 یہ امر کسی سے مخفی نہیں کہ ارضِ مقدسہ فلسطین صرف  اہل فلسطین کے لیے مبارک نہیں بلکہ دنیا کے تمام مسلمانوں کے لیے باعث برکت ہے ۔  انبیإ کی سر زمین ہے اسی سر زمین سے رسول اکرم ﷺ کو اسریٰ اور معراج کا شرف حاصل ہوا۔اور اپنے بیت القدس  کی حفاظت صرف فلسطین میں رینے والے مسلمانوں کی نہیں بلکہ دنیا کے جس جس کونے میں بھی کوٸی مسلمان ہے اس کا فرض بنتا اپنے آباو اجداد کی سر زمین کی حفاظت کرے اپنی جان،مال،اولاد جیسے بھی ہو سکے۔

 دوسرے لحاظ سے دیکھا جاۓ تو اسرائيل جس بربریت کا آج تک مظاہرہ کرتا آ رہا جس طرح وہاں کے ہمارے مسلم بہن بھاٸیوں پر ظلم کے پہاڑ تورتا رہا ہے انہیں تباہ و برباد کرنے کے ہتھکنڈے استعمال کرتا آرہا ہے کبھی انکے گھر تباہ کر دیٸے جاتے ہیں تا کبھی ان پر میزاٸل اور ڈرون کے زریعے حملے کرتا رہا ہے بچوں ، عورتوں ، بوڑھوں کو شہید کرتا آ رہا ہے ۔۔۔۔۔تو کبھی انہیں بجلی و پانی کو نظام معطل کر دیتا ہے تو کبھی ادویات کی فراہمی معطل کر دی جاتی ہے۔۔۔۔کیوں آخر صرف اس لیے کہ وہ مسلمان ہیں ؟  اور پھر کیا یہ خود کم ہیں جو غیر مسلم طاقتیں اس کی مدد کر رہی ہیں ۔ تو سوال یہ ہے کہ ہم مسلمان کہاں ہیں دنیا میں جہاں بھی ہیں اس سب ظلم کو روکنے میں ہمارا کردار کیا ہے ؟ اپنے ایمان کا امتحان ہے یہ کہ اپنے انبیإ علیہ اسلام کی سر زمین کے لیے کیا  کر رہے ؟ اور ان مظلوم بہن بھاٸیوں کے بہتے خون سسکتے آنسووں کو روکنے کے لیے کیا اقدام کر رہے ہے رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ مومن دوسرے مومن کے لیے سیسہ پلاٸی ہوٸی عمارت کی طرح ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کے لیے پشتی زبان کا کام دیتا ہے۔تمام اکنافِ عالم کے مسلمان بھاٸی بھاٸی ہیں، نہ جغرافی حدود انھیں جدا کر سکتے ہیں اور نہ زبان اور رنگ کا اختلاف ان میں تفرقہ ڈال سکتا ہے۔پس عالمِ اسلام ایک عمارت کی طرح ہے یا ایک جسم کی مانند ہے۔ 

        اور جو حالات آج فلسطین میں بنے ہوۓ ہیں اس وقت ان کا ساتھ دینا ہر مسلمان کا فرض ہے کیونکہ جس طرح مسمان پر نماز ، روزہ ، حج  اسلام کے باقی ارکان فرض ہیں اسی طرح جہاد بھی فرض ہے ۔ اللہ تعالی سورہ الحج میں فرماتے ہیں        ترجمہ : اور ان لوگوں کو اجازت دے دی گٸی ہے( جہاد کی) جن سے جنگ کی جا رہی ہے اس وجہ سے کہ ان پر ظلم کیا گیا اور  بے شک اللہ ان (مظلوموں ) کی مدد پر قادر ہے۔  

جہاد فرض ہے ظلم کے خلاف چاہے وہ میدان جنگ میں کافروں کے مقابلے میں ہو۔چاہے جابر حکمران کے سامنے ہو سچ کے ساتھ کھڑا رہنے کے لیے،چاہے وہ قلم کے ساتھ کیا جاۓ ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے ۔۔۔۔۔۔اور آج ہم جس دوراہے پہ کھڑے ہیں ان تینوں قسم کے جہاد کی سخت ضرورت ہے تو جو مسلمان جس حد تک کر سکتا اسے اپنا فرض نبھانا چاہٸے تا کہ کل قیامت کے دن ہم بھی اس پرندے کی طرح جس نے حضرت ابراہیم علیہ اسلام کے لٸے جلاٸی گٸ آگ جو اتنی بھڑکاٸی گٸ تھی کہ اس کےشعلے انتہائی بلندیوں کو چھو رہے تھے اس کوبجھانے کے لیے اپنی چونچ میں پانی بھر بھر کے اس آگ کو بجھانے کی کوشش کرتا رہا وہ پرندہ جانتا تھا کہ اس آگ کے سامنے اس قطرے کی کوٸی اہمیت نہیں لیکن کل قیامت کے دن اللہ تعالی اور اپنے نبی حضرت ابراہیم علیہ اسلام کا سامنا بھی تو کرنا تھا۔۔۔۔۔۔تو اس نے صرف اپنا فرض نبھایا باقی اللہ پہ چھوڑ دیا تو آج وقت کا تقاضا بھی یہ ہی کہتا ہے ۔اپنے مظلوم بہن بھاٸیوں کے لیے ، چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کے لٸے ، پتا نہیں وہ کس حا ل میں ہوں گے بھوکے ،پیاسے، سردی ، گرمی، تکلیف ،درد سہتے سہتے نڈھال ہو رہے ہوں گے۔ان کے لیے اٹھنا لازم ہے ہم پر آج۔۔۔۔

    علامہ اقبال نے کیا خوب فرمایا فلسطین کے لیے !

’ضرب کلیم ‘ کی ایک نظم ’دام تہذیب‘ میں علامہ اقبال رح نے غم ملت کا بیان کچھ یوں کیا ہے :

              جلتا ہے مگر شام و فلسطین پہ مرا دل

               تدبیر سے کھلتا نہیں یہ عقد دشوار

            ترکانِ جفا پیشہ کے پنجے سے نکل کر

             بے چارے ہیں تہذیب کے پھندے میں گرفتار۔

💞حقوقِ مصطفیٰﷺ💞

چونکہ نبی کریمﷺ پورے عالم کے لیےمحسنِ اعظم ہیں اور     ساری نعمتیں آپﷺ کے طفیل سے ہیں تو آپﷺ کے حقوق پہچاننا یہ سب سے بڑی نعمت ہے۔اور آپﷺ کے حقوق تین ہیں۔آپﷺ سے ہم محبت کریں ۔آپﷺ کی عظمت کریں ۔آپﷺ کی اطاعت اور متابعت کریں۔  عظمتِ

حقیقی کرنے والے تو گزر گۓ ہیں۔لیکن ان کو دیکھ کر کچھ بھی کر لیں وہ بھی ہماری سعادت ہے چلو جتنی ہی کر سکیں۔ورنہ اصل عظمت تو یہ تھی کہ امام مالکؒ نے عمر بھر جوتا پہننا چھوڑ دیا ۔امام ابو حنیفہ ؒ نے گیارہ دن استنجإ تک نہیں کیا کہ مدینةالرسول میں رہ کر میں گندگی پھیلاوں۔

دوسری چیز محبت ہے کہ اولاد بنیاد کی محبت اس درجہ کی نہ ہو۔یعنی جب اولاد بنیاد سے مقابلہ پڑے،تو ہم اللہ و رسول کو ترجیح دیں۔اولاد کی محبت کو ترجیح نہ دیں ۔جب کسی حکم شرعی سے اولاد کی محبت سے مقابلہ پڑ جاۓ توہم حکم شرعی کو ترجیح دیں مثلاً خدانخوستہ کسی کا بچہ بیمار ہو جاۓ ٹوٹکے ، ٹونے اور شرکیہ رسموں میں مبتلا نہ ہوا جاۓ کہ شاید یہ اچھا ہو جاۓ جو کہ خلاف شرع بات ہے  تو ۔محبت کا تقاضا یہ ہے کہ شریعت سے محبت ہونی چاہیۓ ۔جان بچانے والا اللہ ہے جب اس کے قانون کی پابندی کرو تو ممکن ہے اس کی برکت سے جان بچ جاۓ ۔محبت کا تقاضا یہ ہے کہ بچے کی جان کی شریعت کے مقابلے میں پرواہ نہ کی جاۓ۔تو دوسرا حق یہ ہے۔

         اور تیسراحق متابعت ہے جو قانون  آپﷺ نے لا کے دیا ہےاس کی پیروی اور اطاعت کی جاۓ جو سُنتیں آپﷺ سے ثابت ہیں ان کی اتباع کی جاۓ ہم اپنی عقل سے ہزار قانون بنا لیں اس میں خیر و برکت نہیں آ سکتی جو آپﷺ کی ایک  سنت کی اداٸیگی میں برکت ہو سکتی ، تو ایک ایک سنت کی پابندی کرنا مثلاًپہننے میں ، کھانے میں، پینے میں،چلنے پھرنے میں، اٹھنے بیٹھنے میں اس انداز کو اختیار کرنے کی کوشش جو آپﷺ کا انداز تھا یہ ایک مستقل نعمت اور برکت ہے۔اسی کا نام متابعت ہے۔

اصل تو یہ ہے کہ ہم اپنی پوری زندگی کو آپﷺ  کی زندگی کےمطابق ڈھالنے کی کوشش کریں اس کے لیے یہ بھی ضروری ہےکہ ہم اس کی تعلیم حا صل کریں دین اسلام کی تعلیم جس سے ہمیں آپﷺ کی طرزِ زندگی کا علم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ

” نبی کریم ﷺ کی زندگی کامل نمونہ ہے۔ “

ایسی خوش نصیب امت ہیں ہم کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایسی ہستی سےنوازا جو تمام جہانوں کے لٸے رحمت بنا کے بھیجے گۓ توامت پر نبیﷺ کے حقوق  کا حق عاٸد ہوتا ہے تو محبت بھی ہو۔عظمت بھی ہو۔اطاعت بھی ہو ۔

محض محبت ہو کہ آدمی دعویٰ کرے کہ میں عاشق رسولﷺ ہوں اطاعت نہ کرے تو وہ محبت نا تمام ہے ایک شخص اگر اپنے باپ سے کہے کہ مجھے آپ سے بڑی محبتمح ہے باپ کہے کہ مجھے حقہ پینے کی عادت ہے ذرا حقہ بھر لاو تو کہے کہ میں نے تو یہ کہا تھا کہ مجھے محبت ہے یہ کب کہا تھا کہ میں حُقہ بھر کے لاٶں گا یا پانی بھر کے لاٶں گا تو باپ کہے گا یہ کیسی محبت ہے ؟ تو محبت تقاضا  کرتی ہے کہ جو میں کہوں وہ کر۔ اگردعویٰ کرے رسولﷺ سے محبت کی اور اطاعت نہ کرے تو یہ کیسی محبت ؟

اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھ دے اور سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق دے۔آمین

وما علینا الا البلاغ۔

سیرت النبی ﷺ

                               ❤ سیرتِ النبی ﷺ 

         

        واحسن منک لم ترقط عینی

           واجمل منک لم تلد النسإ

            خلقت مبرا من کل عیب

      کانک قد خلقت کما تشا ٕٗ     

                                                 ( سیدنا حسان بن ثابت)

ترجمہ، میری آنکھوں نے کبھی آپﷺ سے زیادہ کوٸی حسین نہیں دیکھا۔

عورتوں نے آپﷺ سے زیادہ کوٸی صاحب جمال نہیں جنا۔

آپﷺ کو ہر عیب سے پاک پیدا کیا گیا ہے۔

جیسے آپﷺ اپنی مرضی کے مطابق پیدا کۓ گۓ ہوں۔

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں

    لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوة حسنة۔ سورہ احزاب 

تم لوگوں کے لیے رسول اللہ ﷺ کامل نمونہ ہیں 

     ورفعنا لک ذکرک  سورہ الم نشرح

     ترجمہ۔اور ہم نے آپﷺ کی خاطر آپ کا ذکر بلند کیا۔


انک لعلیٰ خلق عظیم۔    

ترجمہ۔ بے شک آپﷺ اخلاق حسنہ کے اعلیٰ پیمانہ پر ہیں ۔

پھراپنے خاتم النبین رحمة للعالمین ﷺ کے ذریعہ سے مخلوق عالم پر اپنے تمام احسانات و انعامات کا اس طرح اعلان فرمایا :

الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم ا لاسلام دینا      سورہ ماٸدہ

ترجمہ۔آج کے دن تمہارے لیے تمہارے دین کو میں نے مکمل کر دیا اور میں نے تم پر اپنا انعام تمام کر دیا اور میں نے اسلام کو تمہارا دین بننے کے لیے پسند کر لیا۔


خالق کاٸنات اللہ تبارک تعالیٰ نے تمام بنی نوع انسان کو حصول شرف انسانيت  و تکمیل عبدیت اور اپنے تمام احسانات اور انعامات سے مشرف اور بہرہ اندوز ہونے کے لٸے

جب ایسے خیر البشر نبی الرحمة ﷺ کو پیکر مثالی بنا کر مبعوث فرمایا تو ایمان لانے والوں پر اداۓ شکر و امتنان کے لیۓ جس طرح آپﷺ پر صلٰوة وسلام بھیجنا واجب فرمایا ہے اسی طرح ان کو ہر شعبہ زندگی میں آپﷺ کی اطاعت واتباع کا بھی مکلف بنایا ہے نا صرف خاص دنوں میں یا خاص مہینے میں بلکہ پیداٸش سے موت تک ہر سانس کے ساتھ آپﷺ کی اطاعت کو لازم قرار دیا ہے۔ کیونکہ اگر ہم آپ ﷺ سے محبت کے دعویدار ہیں تو یہ چیز ہمارے پورے سال کے چوبیس گھنٹے کی زندگی کے ہر ہر عمل سے ظاہر ہونی چاہیےتب ہی ہم پکے عاشق مانے جا سکتے رمضان کا مہینہ ہے یا حج کا ربیع الاول کا مہینہ ہے یا جمادی الاول کا آپﷺ سے محبت ، اطاعت ،سنت میں کسی بھی طرح کی کمی نہیں آنی چاہیۓ۔

     آپ ﷺ اپنی امت سے بہت ذیادہ محبت کرتے تھے۔ حدیث پاک میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی بھی اپنے ذاتی معاملہ اور مال و دولت میں کسی سی انتقام نہیں لیا ۔مگر اس شخص سے جس نے اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیز کو حرام قراردیا تو اس سے اللہ تعالیٰ کے لیۓ بدلہ لیا اور حضورﷺ کا سب سے زیادہ اشد و سخت صبر غزوہ احد میں تھا کہ کفار کے ساتھ جنگ و مقابلہ کیا اور آپ ﷺ کو رنج والم پہنچایا ۔مگرآپﷺنے نہ صرف صبر و عفو پر ہی اکتفا فرمایا بلکہ ان پر شفقت و رحم فرماتے ہوۓ ان کو اس ظلم و جہل میں معذور گردانا اور فرمایا:

               اللھم اھد قومی فانھم لا یعقلون۔

    یعنی اے اللہ میری قوم کو راہ راست پر لاکیونکہ وہ جانے نہیں۔


حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیںکہ حضور اقدس ﷺ اول تو تمام لوگوں سے زیادہ سخی تھے کوٸی بھی آپﷺ کی سخاوت کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا،کہ خود فقیرانہ زندگی بسر کرتے تھے اور عطاٶں میں بادشاہوں کو شرمندہ کرتے تھے ایک دفعہ نہایت سخت احتیاج کی حالت میں ایک عورت نے چادر پیش کی اور سخت ضرورت کی حالت میں آپﷺ نےپہنی ، اسی وقت ایک شخص نے مانگ لی آپﷺ نے مرحمت فرما دی۔


کفار مکہ اکیس سال تک رسول اکرم ﷺ اور آپ ﷺ کے نام لیواٶں کو ستاتے رہے۔ظلم و ستم کا کوٸی حربہ ایسا نہ تھا جو انہوں نے خداۓ واحد کے پرستاروں پر نہ آزمایا ہو حتی کہ وہ گھر بار وطن تک چھوڑنے پر مجبور ہو گۓ لیکن جب مکہ فتح ہوا تو اسلام کے یہ بد ترین دشمن مکمل طور پر رسول اکرم ﷺ کے رحم و کرم پر تھے اور آپ ﷺ کا ایک اشارہ ان سب کو خاک و خون میں ملا سکتا تھا۔لیکن  ہوا کیا ؟

ان تمام جباران قریش سے جو خوف اور ندامت سے سر نیچے ڈالے آپﷺ کے سامنے کھڑے تھے آپﷺ نے پوچھا :

    ”تمہیں معلوم ہے کہ میں تمہارے ساتھ کیا معاملہ کرنے والا ہوں ؟“

انہوں نے دبی زبان سے جواب دیا ۔”اے صادق اے امین  تم ہمارے شریف بھاٸی اور شریف برادر زادے ہو۔ہم نے تمہیں ہمیشہ رحم دل پایا ہے۔“

      آپﷺ نے فرمایا : آج میں تم سے وہ ہی کہتا ہوں جو یوسف نے اپنے بھاٸیوں سے کہا تھا۔ حضورﷺ نے فرمایا : 

       ” تم پر کچھ الزام نہیں ۔جاٶ تم سب آزاد ہو۔“


آپﷺ ایفاۓ عہد تھے شجاعت و سخاوت کے پیکر تھے امانت دار تھے کہ دشمن بھی آپﷺ پر بھروسہ کرتےتھے۔ سخی ایسے تھے کہ جو آتا سب تقسیم کر دیتے کبھی اپنے لیے کچھ نہیں رکھا ۔ حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ رسول خداﷺ سے کچھ مانگا گیا ہو اور آپ ﷺ نے فرمایا ہو میں نہیں دیتا ۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کل کے لیۓ کوٸی چیز نہ اٹھا رکھتے تھے۔آپﷺ تحمل اور رواداری والا معاملہ فرماتے تھے ۔

آپﷺکی سیرت مبارکہ ہماری زندگی گزارنے کے لیے ہی ہے آج ہم اگر عشق نبیﷺ کا تقاضا کرتے ہیں تو ہمیں اپنے اندر جھانک بھی لینا چاہیے کہ کیا ہمارہ اٹھنا بیٹھنا ، خوشی غمی کا اظہار ، دوستوں دشمنوں کے ساتھ معاملات ، ہماری عادات و عبادات رسول خداﷺ کے بتاٸی ہوٸی تعلیمات کے مطابق ہیں ۔۔۔۔؟ 

      ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ سیرت النبیﷺ کا مطالعہ کرے دین اسلام پڑھے اور سچے عاشق نبیﷺ کا ثبوت دیں۔

 🌺     سکون  🌺


زندگی میں خواہشات کا پیدا ہونا ایک فطری عمل ہے مگر کامیاب جانتے ہو کون ہے جو ان خواہشات کو اپنے ذہن میں سوار نہ کرے کیونکہ جب خواہشات کو آپ زیادہ اہمیت نہیں دو گے تو ان کے پوری نہ ہونے پر آپ کو تکلیف نہیں ہو گی جب آپ تکلیف محسوس نہیں کرتے تو آپ پُر سکون رہیں گے اور سکون اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے اور تب پھر  اللہ کی رضا میں انسان راضی ہونا سیکھ جاتا ہے۔

میرے پاس کامیابی کی کوئی تعریف نہیں ہے، اور مجھے ا کی تلاش میں زیادہ پرواہ نہیں ہے، لیکن اگر اس کے لیے کوئی تعریف طے کرنی ہو، تو میں سمجھتا ہوں کہ کامیابی اندرونی سکون ہے، مصروف رات کے بعد اطمینان سے سونا، یقین کہ تم نے وہ سب کچھ کیا ہے جو تم کر سکتے ہو۔" 

🖤🌼

➖ ڈینزیل واشنگٹن

راہِ نجات

                             🌷  راہِ نجات 🌷


     انسان کو جو کچھ بھی نفع پہنچتا ہے جب کوٸی خوبی اور بھلاٸی اُس کے نفس میں آ جاۓ نفس کے اندر پیوست ہو جاٸیں ۔باہر کتنی ہی خوبیاں پھیلی ہوٸی ہوں لیکن وہ انہیں اندر نہ لے اس کے لٸے نفع کی صورت پیدا نہیں ہوتی۔

اللہ نے انسان کے دل میں دو دروازے رکھے ہیں ایک دروازہ کھلتا ہے تو عرش کی چیزیں نظر آتی ہیں اور ایک دروازہ کھلتا ہے تو فرش کی چیزیں نظر آتی ہیں۔دل میں آنکھ ، کان ، ناک کے راستہ سے جب آدمی دیکھے گا تو ظاہری چمک دمک پھول بوٹے سب نظر آٸیں گے اور اگر ان آنکھ،کان ، ناک کے دروازوں کو بند کر کے دل کے اندر کے دروازے کھولے گا تو عرش کی چیزیں نظر آٸیں گی ، وہاں کے کمالات اترنے شروع ہوں گے۔

نبیﷺ نے فرمایا  ” سارے انسان تباہ و برباد ہونے والے ، سب ہلاک ہونے والے ہیں اگر بچیں گے تو اہلِ علم بچ سکتے ہیں“

    یعنی جہالت میں انسان کی نجات نہیں ہے علم میں انسان کی نجات ہے دنیا کا علم ہو یادین کا علم ہی سے راستہ نظر پڑ سکتا ہے جہالت سے راستہ نظر نہیں پڑ تا۔

حدیث میں ہے کہ کہ معراج کی شب میں نبی کریم ﷺ جب ساتویں آسمان پر پہنچے ہیں تو ساتویں آسمان پر فرشتوں کا قبلہ ہے جس کو بیت المعمور کہتے ہیں ۔انسانوں کا قبلہ مکہ 

میں ہے جس کو بیت اللہ کہتے ہیں اس میں لوگ طواف کرتے ہیں ادھر کو رخ کر کے نماز پڑھتے ہیں ساتویں آسمان پر فرشتوں کا قبلہ ہے فرشتے اس میں طواف کرتے ہیں پھر چھٹے آسمان میں اس کی سیدھ میں دوسرا قبلہ ہے چھٹے آسمان کے فرشتے اس کا طواف کرتے ہیں پانچویں آسمان میں اس کی سیدھ میں اور قبلہ ہے غرض ساتوں آسمانوں میں اوپر نیچے ایک سیدھ میں قبلے ہیں زمین پر ٹھیک اسی کے سیدھ میں قبلہ ہے جس کو آپ کعبہ کہتے ہیں۔ 

حدیث میں ہے کہ اگر بیت المعمور سے کوٸی پتھر ڈالا جاۓ تو ٹھیک بیت اللہ الکریم کی چھت پر آ گرے ۔

اصل میں یہ قبلہ محل اور  مکان ہے عمارت قبلہ نہیں اگر عمارت نہ بھی رہے معاذاللہ  اس کو ڈھا دیا جاۓ نماز جب بھی ادھر ہی کو منہ کر کے پڑھنی پڑے گی اس واسطے کہ قبلہ ان پتھروں کا یا مکان کا نام نہیں بلکہ اس موضع اور محل کا  ہے جہاں وہ عمارت بنی ہے ساتویں زمین سے لے کر ساتویں آسمان تک ایک ہے وہ ہی قبلہ ہے۔

بہر حال ساتویں آسمان پر آپ ﷺ کی ملاقات حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ہوٸی جو بیت المعمور کی دیواروں سے ٹیک لگا کر بیٹھے ہوۓ تھے۔اور وہ جگہ غالباً اس لیے دی گٸ کیونکہ دنیا میں انہوں نے بیت اللہ الکریم کی تعمیر کی ہے تو جیسا عمل تھا ویسی جزإ سامنے آٸی ساتویآسمان پر بیٹھنے کے لٸے بھی انہیں بیت اللہ دیا گیا۔نبی کریم ﷺ سے مل کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کہ:۔

اے محمد ﷺ ! اپنی امت کو میرا سلام کہہ دینا اور کہہ دینا کہ الجنت قیعان ۔ جنت تمہارے حق میں چٹیل میدان ہے اس میں کوٸی چیز بنی ہوٸی نہیں جو بھی محلات اور باغات ہوں وہ تمہارے لٸے کچھ نہیں تم جب کوٸی عمل کرو گے تمہیں جب ہی ان محلات کا استحقاق پیدا ہو گا تم اپنی جنت خود بناو گے بنی بناٸی جنت تمہاری نہیں ہے خود تمہیں بنانی پڑے گی جیسے عمل کرو گے ویسا ہی وہاں ثمرہ مرتب ہو جاۓ گا۔

حدیث میں ہے کہ جنت میں ایک محل تعمیر کیا جاتا ہے ملاٸکہ اس کی تعمیر کرتے ہیں ۔تعمیر کرتے کرتے ایک دم تعمیر رک جاتی ہے دوسرے فرشتے پو چھتے ہیں تم تو تعمير بنا رہے تھے رک کیوں گۓ؟ وہ کہتے ہیں کہ فلاں آدمی فلاں عمل کر رہا تھا ہم اس کے لۓ مکان بنا رہے تھے اس نے عمل کرنا چھوڑ دیا ہم نے تعمیر روک دی تو درحقيقت جنت کی تعمیر آپ خود یہاں بیٹھ کر کرتے ہیں ہر انسان معمار ہے

کوٸی دنیا میں بیٹھ کر جہنم بنا رہا ہے کوٸی جنت بنا رہا ہے اپنی اپنی محنت کر رہے ہیں۔

اور عمل بھی وہ ہی کار آمد ہے جس میں غرّہ نہ ہو انسان اتراۓ نہیں دل میں خلوص ہو دوسروں کو کم تر نہ سمجھے تب ہی نیک عمل قبول ہو گا۔

محرم الحرام کی رسموں کے بارے میں

 جو چیز شرع میں ضروری نہ ہو اس کو ضروری سمجھنا یا حد سے زیادہ پابند ہو جانا بُری بات ہے اور اس واسطے ایسے کام کو دین سمجھنا گناہ ہے۔

اسی طرح محرم کی رسموں کو سمجھ لو شرع میں صرف اتنی اصل ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یوں فرمایا ہے کہ جو شخص اس روز اپنے گھر والوں پر خوب کھانے پینے کی فراغت رکھے سال بھر تک اس کی روزی میں برکت ہوتی ہے “

اور جب اتنا کھانا گھر میں پکے تو اس میں سے اللہ کے واسطے بھی محتاجوں غریبوں کو دے دے تو کیا ڈر ہے۔اس سے زیادہ جو کچھ کرتے ہیں اس میں اسی طرح کی براٸیاں ہیں جو شروع میں لکھی ہیں۔

 اس سےبڑھ کر شربت تقسيم کرنے کی رسم ہے اپنے گمان میں کربلا کے پیاسے شہیدوں کو ثواب بخشتی ہیں تویاد رکھو کہ شہیدوں کو شربت نہیں پہنچتا بلکہ ثواب پہنچ سکتا ہے اور ثواب میں ٹھنڈا شربت اور گرم گرم کھانا سب برابر ہے ۔ پھر شربت کی پابندی میں سوا غلط عقیدے کے کہ اُن کی پیاس اس سےبجھے گی اور کیا بات ہے ایسا غلط عقیدہ خود گناہ ہے۔ اور بعض لوگ محرم میں  تعزیہ کا سامان کرتے ہیں اور تعزیہ کی برائی اس سے زیادہ کیا ہو گی کہ اس کے ساتھ ایسے ایسے برتاٶ کرتے ہیں کہ شرع میں بلکل شرک اور گناہ ہے ۔اس پر چڑھاوا چڑ ھاتے ہیں اس کے سامنے سر جھکاتے ہیں ۔اس پر عرضیاں لٹکاتے ہیں ۔وہاں مرثیے پڑھتے ہیں ، روتے چلاتے ہیں اس کے ساتھ باجے بجاتے ہیں اس کے دفن کرنے کی جگہ کو زیارت سمجھتے ہیں ۔مرد و عورت آپس میں بے پردہ ہو جاتے ہیں نمازیں برباد کرتے ہیں ان باتوں کی بُراٸی کون نہیں جانتا۔بعضے آدمی اور بکھیڑے نہیں کرتے مگر شہادت نامہ پڑھا کرتے ہیں تو یاد رکھو کہ اگر اس میں روایتیں ہیں تب تو ظاہر ہے منع ہے اور اگر صحیح روایتیں بھی ہوں جب بھی۔چونکہ سب کی نیت یہ ہی ہوتی ہے کہ سُن کر روٸیں گے اور شرع میں مصیبت کے اندر ارادہ کر کے رونا درست نہیں۔اس واسطے اس طرح کا شہادت نامہ پڑھنا بھی درست نہیں۔اسی طرح محرم کے دنوں میں ارادہ کر کے رنگ پڑیا چھوڑ دینا اور سوگ اور ماتم کی وضع بنانا اپنے بچوں کو خاص طور کے کپڑے پہنانا یہ سب بدعت اور گناہ کی باتیں ہیں۔

               

                                     بحوالہ : بہشتی زیور(ششم حصہ

                             از ۔مولانااشرف علی تھانویؒ



” اُمتِ محمدیہ کی مثال “

 نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میری لاٸی ہوٸی شریعت کی مثال ایسی ہے جیسے آسمان سے شدید قسم کی بارش اتری ، موسلا دھار پانی زمین پر برسنا شروع ہوا۔پانی آ کر پڑا تو زمین کے تین حصے ہو گۓ۔ایک ٹکرا نہایت پاکیزہ،نہایت عمدہ تھا۔اس نے پانی کوجذب کیا اور جذب کر کے طرح طرح کے پھل اور پھول چمن اور رنگ برنگ کے باغ لگاۓ اور دنیا کو بہار بنا دیا ۔۔۔ایک ٹکرا ایسا تھا کہ کچھ اُگا تو نہیں سکا،مگر بارش کے پانی کو جمع کر لیا ۔بڑے تالاب بھر دٸیے کہ لوگ اس سے پانی لے جاتے ہیں،سیراب بھی ہوتے ہیں،تو وہ زمين اگر پھل پھول نہ نکال سکی تو اس نے پانی جمع کر لیا۔

اب تیسرا ٹکڑا ایسا تھا کہ وہ چٹیل میدان تھا۔نہ پانی کو جزب کر سکا نہ جمع کر سکا۔پانی آیا اور بہہ کر ادھر ادھر نکل گیا،اور وہ خالی کا خالی رہ گیا۔

فرمایا اس طرح سے وحی کا پانی اترا ، تو قلوب کی دنیا تین حصوں میں منقسم ہو گٸی ایک وہ قلوب جنہوں نے وحی الٰہی اور علم ربانی کے پانی کو جزب کیا،یہ طبقہ فقہإ اور علمإ ِ ربانی کا تھا۔دوسرے وہ قلوب جنھوں نے جزب تو نہ کیا مگر پانی جمع کر لیا یہ طبقہ حفاظ اور محدثین کا تھا۔تیسرے وہ قلوب جن پر کوٸی اثر نہیں ہوا اور یہ طبقہ کفار کا ہے۔

SAMSUNG Galaxy S25 Cell Phone, 128GB AI Smartphone, Unlocked Android, AI Camera, Fast Processor, ProScaler Display, Long Battery Life, 2025, US 1 Yr Manufacturer Warranty, Mint

Samsung Galaxy S25 (2025) – Full Review Samsung continues to refine its flagship S-series with the release of the Galaxy S25 , offering mea...